دہرادون، 31؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اتراکھنڈ حکومت جلد ہی ایس سی ترپاٹھی اور کے ایل بھاٹی کمیشن کی جانچ رپورٹ کو عوامی کرے گی۔یہ دونوں کمیشن کانگریس حکومت نے سابقہ بی جے پی کے دور اقتدار کے مبینہ گھوٹالوں کی تحقیقات کے لیے قائم کیا تھا ۔ان دونوں کمیشنوں نے اپنی رپورٹ حکومت کو دے دی ہے لیکن اب تک وزیر اعلی ہریش راوت ان پر کارروائی کرنے سے گریزکرتے ہیں،لیکن گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں ہوئی اتراکھنڈ کانگریس رابطہ کمیٹی کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ دونوں جانچ رپورٹوں کو ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں رکھ کر ان پر بحث کی جائے تاکہ آئندہ سال کے آغاز میں مجوزہ اسمبلی انتخابات سے پہلے ان کو عوامی کیا یا جا سکے۔کانگریس کے باوثوق ذرائع نے میڈیا سے بات چیت میں اس بات کی تصدیق کی کہ بہت جلد راوت حکومت کابینہ کا اجلاس طلب کرکے اس پر بحث کرا سکتی ہے۔2012کے اسمبلی انتخابات کے دوران جاری اپنے منشور میں کانگریس نے بی جے پی حکومت کے دوراقتدار کے مبینہ گھوٹالوں کو ایک بڑا موضوع بناتے ہوئے اقتدار میں آنے پر ان کی جانچ کرانے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا تھا۔ریاستی کانگریس صدر کشور اپادھیائے نے بھی حال ہی میں وزیر اعلی راوت کو خط لکھ کر ان دونوں جانچ رپورٹوں کی بنیاد پر کارروائی کرنے کی اپیل کی تھی۔ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر کے ایل بھاٹی نے سال 2012میں جانچ شروع کی تھی اور اس کے ایک سال بعد اتراکھنڈ بیج اورترائی کارپوریشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی رپورٹ حکومت کو سونپ دی تھی۔بھاٹی کے استعفی دینے کے بعد حکومت نے ترپاٹھی کمیشن قائم کیا تھا اور اس نے بھی اپنی جانچ رپورٹ گزشتہ سال حکومت کو سونپ دی تھی۔ان کمیشنوں کو جن مبینہ گھوٹالوں کی تحقیقات کا ذمہ سونپا گیا تھا ، ان میں 56پن بجلی منصوبوں الاٹمنٹ ، سٹرجیا رہائشی منصوبہ ، مہاکمبھ میلہ اور مرکزی امدادسے چلائے جارہے منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگی شامل ہے۔